بنگلورو 30؍جون (ایس او نیوز) مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے دو دن قبل کاروار میں بیان دیتے ہوئے حزب مخالف کے گٹھ جوڑ پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ متوقع لوک سبھا انتخابات میں کانگریس ، سماج وادی، جے ڈی (ایس) ،بی ایس پی، آر جے ڈی جیسی بہتر ساری پارٹیاں صرف وزیراعظم نریندر مودی کا مقابلہ کرنے کے ایک ہی مقصد سےمتحد ہوگئی ہیں۔ آننت کمار ہیگڈے نے مودی کو ٹائیگر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹائیگر‘ کا مقابلہ کرنے کے لئے کوے،لومڑیاں،بندر اور بھیڑیوں وغیرہ نے ہاتھ ملالیا ہے۔اب آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ’ ٹائیگر‘ کو جیت دلانی ہے یا لکڑبگھے جیسے کم تر جانوروں کو 2019کے انتخاب میں جیت دلانا ہے۔‘‘
اننت کمار ہیگڈے کے اس بیان پر چبھتا ہوا پلٹ وار کرتے ہوئے سینئر کانگریسی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کرناٹکا ویرپا موئیلی نے کہا کہ’’ٹائیگر وحشی ہوگیا ہے ، اسے جنگل میں واپس بھیجنے کی ضرورت ہے۔‘‘
خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اننت کمار ہیگڈے نے اس طرح کی بدزبانی کی ہو۔ اس سے پہلے اننت کمار نے دلتوں کی کتوں سے تشبیہ دی تھی۔ انہیں ہندوستان کا دستور بدلنے کی بات کہنے پربھی عوامی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔ابھی دودن قبل ہیگڈے نے سابق وزیر اعلیٰ کرناٹکا سدارامیا کو ’بھانڈ‘ قرار دیا تھا۔اس سے قبل بی جے پی صدر خود امیت شاہ نے بھی حزب اختلاف کے متوقع اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھاکہ کتے ،بلی ، سانپ اور چوہے سب ایک ساتھ متحد ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اننت کمار ہیگڈے نے کاروار میں پروگرام کے دوران کانگریس کے دور حکومت پر طنز کرتے ہوئے ایک اورمتنازعہ تبصرہ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ ’ گزشتہ 70سالوں کے دوران اس ملک پر کانگریس کے بجائے اگر بی جے پی نے حکومت کی ہوتی تو آج آپ لوگ یہ جو پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، اس کی جگہ چاندی کی کرسیوں پر بیٹھے ہوتے!‘‘